Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازِ فجر کی اقامت کے دوران آنے والا شخص سنتِ فجر ادا کرے یا نہیں ؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1017
Issued
23 محرم الحرام 1445ھ / 11 اگست 2023ء

Question

فجر کی جماعت کا نام ہو جاتا ہے اور اقامت بھی شروع ہو جاتی ہے، اس دوران اگر کوئی شخص آئے، تو کیا اسے سنت ادا کرنی ہوگی اور کیسے ادا کرے گا؟

Answer (beginning)

فجر کی جماعت قائم ہو اور کسی نے سنتیں نہیں پڑھیں تو اگر اتنا موقع ہے کہ سنت پڑھ کر فرضوں کا سلام پھرنے سے پہلے پہلے نماز میں شامل ہو جائے گا اگرچہ التیات میں خواہ مختصر طور پر فرائض و واجبات کی رعایت کے ساتھ پڑھنے سے، تو صفوں سے الگ پہلے فجر کی سنتیں پڑھے اور اگر جماعت نہیں ملے گی، امام سلام پھیر دے گا تو سنت فجر چھوڑ دے اور جماعت میں شامل ہو جائے۔ طحاوی شریف میں حدیث پاک میں ہے: حضرت ابو عثمان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جاء عبد اللہ بن عباس والامام فی صلاة الغداة ولم یکن صلی الرکعتین فصلی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما الرکعتین خلف الامام ثم دخل معهم“ یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.