Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چارپائی کی ایک جانب کوئی شخص بیٹھا ہو ، اس چارپائی کو سترہ بنانا
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1004
- Issued
- 26 صفر / 1445ھ / 13 ستمبر 2023ء
Question
اگر کوئی شخص چارپائی پر ایک طرف بیٹھا ہو، تو اسی چارپائی کو سترہ بنا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
چارپائی کا جو حصہ نمازی کے سامنے ہو وہ ایک ہاتھ اونچا ہو، تو اس صورت میں اسے سترہ بنا سکتے ہیں اگرچہ اس پر کوئی بیٹھا یا سو یا ہو ہو جبکہ اس کا چہرہ نمازی کے سامنے نہ ہو کیونکہ جان بوجھ کر کسی کے چہرے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی و گناہ ہے اور اس طرح پڑھی گئی نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ البتہ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے بچنا مناسب ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ”کنت أنام بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلائی فی قبلہ فإذا سجد غمزنی فقبضت رجلی فإذا قام بسطتہما قالت: والبیوت یومئذ لیس فیھا مصابیح“ یعنی میں رسول اللہ صلی اللہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.