Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم کی تعظیم کا حکم
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-984
- Issued
- 07 ذوالحجہ الحرام 1444ھ / 26 جون 2023ء
Question
غیر مسلم کی تعظیم کا کیا حکم ہے اور کوئی غیر مسلم جو عمر میں بڑا ہو، اس کو ”اوائل“ یا ”اوآئ“ کہہ کر پکارنے کیا حکم ہو گا؟ نیز کسی غیر مسلم کو اپنا ٹیچر بنا سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
کافر کی تعظیم کفر ہے جبکہ اس کے کفر کو اچھا جان کر تعظیم کرے اور اگر مذکورہ الفاظ تعظیم کے لیے نہیں کہے بلکہ کسی مجبوری میں کہے جیسے اسے مخاطب یا متوجہ کرنے کے لیے یا اگر نہیں کہتا تو وہ کوئی نقصان پہنچائے گا تو حرج نہیں۔ شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مد ظلہ العالی ”کفر یہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“ میں فرماتے ہیں: ”اگر کافر کے کفر کو اچھا جان کر تعظیم کرے گا تو خود کافر ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.