Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اذان میں حروف کی ادائیگی درست نہ ہو، تو ایسی اذان کا حکم اور اس کا جواب دینا کیسا ؟

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
Web-980
Issued
29 ذوالقعدہ الحرام 1444ھ / 19 جون 2023ء

Question

اذان میں اگر حروف کی ادائیگی، مخارج کی ادائیگی میں غلطی ہو تو ایسی اذان ہو جائے گی؟ اور اس کا جواب دینا ہو گا یا نہیں؟

Answer (beginning)

اگر تلفظ اور مخارج غلط ہونے کی وجہ سے اذان کے الفاظ بگڑ جائیں مثلاً اللہ اکبر کو اللہ اکبر یا ”حی“ کو ”ھی“ وغیرہ کہے، تو اب یہ لحن کے حکم میں ہے ایسی اذان دینا حرام ہے اور اس کا جواب بھی نہ دیا جائے بلکہ سنی بھی نہ جائے اور جب اذان ہی صحیح نہیں ہوئی تو ایسی اذان کو دوبارہ ضرور لوٹانا چاہئے۔ ردالمحتار میں ہے: ”لو کان بعض کلماته غیر عربی او ملحوناً لا تجب علیه الاجابة فی الباقی لانه حینئذ لیس اذانا مسنوناً کمالو کان کله کذلک او کان قبل الوقت او من جنب او امراة“ یعنی اگر بعض کلمات غیر عربی میں کہے یا ان میں لحن تھا، تو باقی اذان کا جواب بھی اس پر واجب نہیں کیونکہ اس وقت یہ مسنون اذان نہیں جیسا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.