Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کراچی میں رہنے والے کا پاکستان کے کسی دوسرے مقام پر قربانی کرنا
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-962
- Issued
- 29 ذیقعدہ الحرام 1444ھ / 19 جون 2023ء
Question
میری مستقل رہائش کراچی میں ہے، اگر میں پاکستان کے کسی دوسرے شہر یا گاؤں میں قربانی کرنا چاہوں، تو اس کا شری حکم کیا ہوگا؟
Answer (beginning)
پونچی گئی صورت میں ایسا کرنا، جائز ہے، مگر اس بات کا خیال رہے کہ جب کسی شہر میں مقیم شخص اپنی قربانی کسی گاؤں میں کروائے تو دونوں جگہ یعنی اس گاؤں اور مؤکل (قربانی کروانے والے) کے شہر میں بھی قربانی کا وقت ہونا ضروری ہے۔ جیسے: اگر مؤکل کی طرف سے گاؤں میں دس ذوالحجہ کو صبح صادق یعنی فجر کا وقت شروع ہوتے ہی قربانی کی جا رہی ہو تو ضروری ہے کہ مؤکل کے شہر میں بھی فجر کا وقت شروع ہو چکا ہو کیونکہ اس سے پہلے مؤکل پر قربانی واجب ہی نہیں ہوتی اور کسی عبادت کے واجب ہونے سے پہلے اس کی ادائیگی سے برئ الذمہ ہو جانا ممکن نہیں، لہذا جہاں اس گاؤں اور مؤکل کے شہر میں اتنا زیادہ فاصلہ ہو کہ گاؤں میں فجر کا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.