Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بروکر کمیشن کا مستحق کب ہوتا ہے ؟ تفصیلی فتویٰ
Answer (beginning)
بروکر کے مستحق اجرت ہونے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ صرف زبانی بات چیت، صلاح و مشورہ کے بجائے اس کام کے لیے اپنا وقت صرف کرے، محنت و بھاگ دوڑ کرے اور کام مکمل کر لے یعنی اگر خود عاقد ہے کہ کسی چیز کے خریدنے یا بیچنے کا وکیل ہے، تو اس چیز کو خرید لے یا بیچ لے، یونہی اگر خود عاقد نہ ہو، بلکہ فرینشین کے درمیان مکان، پلاٹ وغیرہ کسی چیز کا سودا کر رہا ہو، تو سودا پایہ تکمیل تک پہنچ جائے، تب اجرت کا مستحق ہو گا، لہذا بروکر اگر محنت و بھاگ دوڑ نہ کرے صرف زبانی دو چار باتیں کر لے، صلاح و مشورہ دے دے یا محنت و بھاگ دوڑ تو کرے مگر کام مکمل نہ کر سکے، تو کسی اجرت کا مستحق نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.