Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شربت میں انگلی داخل ہو گئی، تو کیا اس کا پینا مکروہ ہے ؟

Answer (beginning)

شربت میں انگلی داخل ہونے سے شربت مستعمل اور اس کا پینا مکروہ تنزیبی نہیں ہو گا، اگرچہ جس کی انگلی داخل ہوئی، وہ بے وضو ہو، کیونکہ پانی کے مستعمل ہونے کے لیے اس کا اس قابل ہونا ضروری ہے کہ اس سے نجاستِ حکمیہ کا زوال یا قربت کا حصول ممکن ہو اور یہ خوبی "مطلق پانی" میں ہوتی ہے، اسی لیے جب مطلق پانی کو مذکورہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو وہ "مستعمل" ہو جاتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں "مقید پانی" مثلاً شربت، سرکہ اور لسی وغیرہ ہو تو ضو کے قابل ہی نہیں، تو ہاتھ لگنے سے اس کے مستعمل ہونے کا بھی کوئی معنی نہیں کہ مستعمل وہی پانی ہوتا ہے، جو مطلق ہو، لہذا شربت، دودھ، لسی، سرکہ یا عرقِ گلاب…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.