Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج یا عمرہ کی سعی بے وضو کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

سعی کے لیے طہارت شرط نہیں، لہذا اگر کسی نے بے وضو سعی کر لی، تو بھی ہو جائے گی اور کوئی کفارہ دم وغیرہ لازم نہیں ہو گا، البتہ منتخب یہ ہے کہ باوضو سعی کی جائے۔ بحر الرائق میں ہے: ”السعی محدثاً أو جنباً لا یوجب شیئاً سواء کان سعی عمرہ أو حج“ حالت حدث یا جنابت میں سعی کرنا کسی چیز کو واجب نہیں کرتا، چاہے عمرہ کی سعی ہو یا حج کی۔ (بحر الرائق، جلد 3، صفحہ 35 مطبوعہ کوئٹہ) حج و عمرہ کی وہ عبادات جن میں طہارت شرط نہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے فتاویٰ عالمگیری میں فرمایا: ”کالسعی“ جیسے سعی۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 499، مطبوعہ کوئٹہ) بہار شریعت میں ہے: ”سعی کے لیے طہارت شرط نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.