Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوسرے شہر میں موجود سامان پر قبضہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
منقولی (Movable) چیز خرید کر قبضہ کرنے سے پہلے آگے فروخت کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ پوچھی گئی صورت میں صرف یہ کہہ دینے سے کہ ”گودام میں آپ کی دال الگ سے رکھی ہوئی ہے، جب آپ کا دل چاہے گاڑی لگا کر اٹھا لیجیے گا“ نہ حقیقتاً قبضہ ہوا نہ حکم۔ تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو خرید کر آگے بچنے سے پہلے حقیقتاً یا حکماً قبضہ ضروری ہے۔ حقیقتاً قبضہ یہ ہے کہ باقاعدہ فزیلی (Physically) اس چیز پر قبضہ کر لے اور حکماً قبضہ یہ ہے کہ بالغ (Seller)، مبیج (Sold Item) اور مشتری (Buyer) کے درمیان اس طرح تخلیہ کر دے کہ اگر مشتری قبضہ کرنا چاہے تو کر سکے، قبضہ سے کوئی چیز بالغ (Preventing) نہ ہو، مبیج اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.