Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا اونٹ میں قربانی کے 10 حصے ہو سکتے ہیں؟ نیزایک حدیثِ پاک کی تشریح
Answer (beginning)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث قولیہ و فعلیہ، متعدد صحابہ کرام علیہم الرضوان کے آثار شریفہ، اجلہ تالیین کے اقوال اور کثیر فقہاء کے اتفاق سے یہ بات واضح ہے کہ گائے کی طرح اونٹ کی قربانی میں بھی زیادہ سے زیادہ سات افراد شرکت کر سکتے ہیں۔ نیز نظر صحیح و عقل سلیم کا بھی یہی تقاضا ہے 1 کہ اونٹ کی قربانی میں سات سے زائد افراد کی شراکت درست نہ ہو۔ ### احادیث قولیہ و فعلیہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: ”فَأَمَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِمَّا فِي بَدَنَةٍ“ ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.