Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرائے پر دِیے ہوئے گھر کی وجہ سے قربانی کا حکم ؟
Answer (beginning)
اگر اس گھر کی قیمت تنہا، نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار کی قیمت) کے برابر یا اس سے زائد ہے، جیسا کہ عموماً گھروں کی قیمت نصاب، بلکہ اس سے زائد ہی ہوتی ہے یا تنہا اس کی قیمت نصاب کے برابر تو نہیں، لیکن آپ کے پاس اس کے علاوہ حاجت اصلیہ سے زائد مال موجود ہے اور گھر کی قیمت اس مال سے مل کر نصاب کی مقدار بنتی ہو، تو آپ پر قربانی واجب ہے ورنہ نہیں۔ امام قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”واذا کان له دار لا یسکنها ویؤاجرها أو لا یؤاجرها یعتبر قیمتها فی الغنی، و کذا اذا سکنها وفضل عن سکناه شیء یعتبر فیہ قیمۃ الفاضل فی النصاب ویتعلق بهذا النصاب أحکام وجوب صدقۃ الفطر والأضحیۃ“ ترجمہ: اگر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.