Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفلی طواف شروع کیا، تو پورا کرنا لازم ہے؟ پورا نہیں کیا تو کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

نفلی طواف شروع کر دینے سے اُس کی ادائیگی ذمہ پر لازم ہو جاتی ہے اور اب اُس کو پورا کرنا واجب و ضروری ہوتا ہے۔ جو شخص نفلی طواف شروع کر کے اسے پورا نہ کرے، تو چاہے یہ پورا نہ کرنا کسی عذر کی وجہ سے ہو یا بغیر عذر، بہر صورت اُس پر کفارہ لازم ہوگا، جس کی تفصیل یہ ہے کہ طواف قدوم کی طرح اگر نفلی طواف شروع کر کے، اُس کے اکثر یعنی چار یا اس سے زائد پھیرے (چکر) ترک کر دیئے تو دم لازم ہوگا اور اگر اقل یعنی چار سے کم ایک، دو یا تین پھیرے ترک کر دیئے، تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ فطر لازم ہوگا، ہاں اگر نفلی طواف نامکمل تھا، لیکن پھر پورا کر لیا، تو چار پھیرے پورا کر لینے کی صورت میں دم ساقط اور زائد…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.