Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فصل کاٹنے سے پہلے ہی بیچ دی، تو عشر خریدار پر ہوگا یا بیچنے والے پر ؟

Answer (beginning)

فصل جب اس قدر تیار ہو جائے کہ اب اس کے بگڑنے، سوکھنے اور خراب ہونے کا اندیشہ نہ رہے، تو اس پر عشر واجب ہوتا ہے اور جس کی ملک میں یہ حالت پیدا ہوگی، اسی پر عشر لازم ہوگا۔ صورت مسئولہ میں چونکہ یہ حالت بالغ (یعنی بیجنے والے) کی ملک میں پیدا ہوئی کہ اس نے فصل تیار ہونے کے بعد فروخت کی، لہذا صورت مسئولہ میں اسی پر عشر لازم ہے، خریدار پر لازم نہیں۔ عشر لازم ہونے کے متعلق در مختار میں ہے: ”ولوباع الزرع ان قبل ادراکه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع“ ترجمہ: اور زراعت نیچی، اگر پکنے سے پہلے تو عشر مشتری پر ہے اور اگر اس کے بعد تو بالغ پر۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.