Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روٹیاں بنانے والوں اور ہوٹل والوں کی ایک ڈیل کا حکم
Answer (beginning)
سوال میں بیان کردہ تفصیل سے واضح ہے کہ فرینڈین کے درمیان پیش آنے والی یہ صورت خرید و فروخت کی ہے کہ ہوٹل والا 15 روپے کی روٹی لے کر 20 روپے کی فروخت کرتا ہے۔ اگر یہی صورت ہے تو یہ بات واضح ہے کہ جب روٹی ہوٹل والے کے قبضہ (Possession) میں چلی جائے گی تو اب اس کے نفع نقصان کا وہ خود مالک ہو گا۔ خرید و فروخت ہو جانے کے بعد جب خریدار سامان پر قبضہ کر لیتا ہے تو سامان کا نفع و نقصان خریدار کے ذمہ ہوتا ہے جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ”ان المبیع انماید خل فی ضمان المشتری بالقبض“ 1 یعنی: مشتری کے میچ پر قبضہ کر لینے سے میچ اس کے ضمان میں داخل ہو جاتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.