Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا شوال کے 6 روزے رکھنا مکروہ ہے ؟ ایک اعتراض کا جواب

Answer (beginning)

احناف کے نزدیک عید الفطر کے بعد شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھنا نہ صرف جائز، بلکہ مستحب ہے، یہی احناف کی معتبر کتب میں مذکور ہے اور امام محمد بن حسن الشیبانی اور امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہما سے مروی ہے۔ امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف مطلقاً ممانعت کی نسبت درست نہیں، اول تو کسی سند صحیح سے آپ سے ممانعت ثابت نہیں، ثانیاً جہاں آپ کی طرف ممانعت کی نسبت کی بھی گئی ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ رمضان کے فوری بعد عید کے دن بھی روزہ رکھے، اگر عید کے دن کا روزہ چھوڑ کر روزے رکھتا ہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، بالخصوص متفرق ایام میں رکھنا کہ اس سے نصاریٰ سے مشابہت بھی لازم نہیں آتی اور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.