Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بینک کو اپنی جگہ کرائے پر دینا کیسا ؟
Answer (beginning)
بینک کو جگہ کرائے پر دینا جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔ تاہم اگر بینک کو جگہ کرائے پر دی تو وہاں ہونے والے ناجائز کاموں کے ذمہ دار خود بینک والے ہیں، جگہ کرایہ پر دینے والے پر وبال (Sin) نہیں جبکہ وہ ناجائز کاموں پر مدد کی نیت نہ کرے۔ محیط برہانی میں ہے: ”واذا استاجر الذمي من المسلم دارا ليسكنها فلا باس بذلك لان الاجارة وقعت على امر مباح فجازت وان شرب فيها الخمر او عبد فيها الصليب او ادخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم في ذلك شي لان المسلم لم يؤاجر لها انما يؤاجر للسكنى، وكان بمنزلة مالوا جردارا من فاسق كان مباحا، وان كان يعصى فيها“ یعنی: مسلمان کے ذمی کو رہنے کے لئے گھر کرائے پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.