Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقروض کو قرض معاف کرنے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟
Answer (beginning)
زید نے عمرو کو اپنا قرض معاف کر دیا، تو قرض کی معافی تو درست ہو جائے گی، مگر اس سے زید کے دیگر اموال کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ کیونکہ دین کی معافی ایک اعتبار سے استنباط (اپنا حق ساقط کرنا) ہے اور ایک اعتبار سے تملیک ہے۔ جبکہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں کامل و مطلق طور پر تملیک فقیر (یعنی فقیر کو مالک بنانا) شرط ہے۔ البتہ زید اگر چاہتا ہے کہ زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے اور عمرو کا قرض بھی معاف ہو جائے اور وہ مستحق زکوٰۃ بھی ہے، تو درست طریقہ یہ ہے کہ اپنے پاس سے زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت سے اسے رقم دے دے، پھر اپنے قرض میں اس سے واپس لے لے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.