Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا سامع کے علاوہ کوئی اور شخص لقمہ نہیں دے سکتا ؟
Answer (beginning)
قوانین شریعت کی روشنی میں اگر امام نماز میں ایسی غلطی کر رہا ہو کہ جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، تو اصلاح نماز (نماز کی درستی) کے لیے ہر مقتدی پر بتا فرض کفایہ ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی بتا دیا، تو سب کے ذمہ سے فرض اتر جائے گا، اگر کوئی بھی نہ بتا ئے، تو جتنے جاننے والے ہوں گے، سب گنہگار ہوں گے اور اگر اس غلطی سے نماز فاسد نہ ہوتی ہو، تب بھی اگر کوئی آیت یا اس کا کلمہ رہ جائے، تو لقمہ دینا جائز ہے، بلکہ تراویح میں پورے قرآن کریم کا ختم کرنا مقصود ہوتا ہے 1 اور کچھ حصہ بھی رہ جانے سے یا کسی غلطی کے ساتھ وہ مکمل نہیں ہو گا، لہذا جب امام نہ پڑھ پارہا ہو یا کچھ حصہ چھوڑ کر آگے پڑھنا شروع کر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.