Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پتنگ اڑانے ،بنانے اور بیچنے کا حکم

Answer (beginning)

موجودہ دور میں جس انداز میں پتنگ بازی رائج ہے، جو انتہائی بے پردگی، بے حیائی، بیہودگی، شور شرابے، گانے باجے، ہوائی فائرنگ، ایذاے مسلم، پڑوسیوں کے حقوق کی بربادی، کروڑوں اربوں روپے کے بجلی کے نظام کی تباہی، گردنیں کاٹنے، راہ گیروں کو زخمی کرنے، جانیں ہلاک کرنے، اور اس طرح کے محرمات کا مجموعہ ہے۔ ایسی پتنگ اڑانا، بنانا اور فروخت کرنا شرعاً عاسب ناجائز و گناہ ہے۔ پتنگ اڑانا ایک فضول و عیب کھیل ہے، جس کا دینی یاد نیاوی اعتبار سے کوئی فائدہ نہیں اور نقصان بے شمار ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسلمان کے لیے اس طرح کے ہر لہو و لعب کھیل کو ناجائز قرار دیا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.