Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کو کس عمر میں روزہ رکھوانا چاہیے؟نیز نابالغ بچہ روزہ توڑ د ے ،تو قضاء لازم ہے ؟

Answer (beginning)

نابالغ بچے کو روزے رکھوانے کا وہی حکم ہے، جو اس کو نماز پڑھوانے کا ہے یعنی جب بچے کی عمر کے سات سال مکمل ہو جائیں اور آٹھواں سال شروع ہو، تو اس کے ولی پر لازم ہے کہ اس کو فرض روزہ رکھنے کا حکم دے اور جب اس کی عمر کے دس سال مکمل ہو جائیں اور گیارہواں سال شروع ہو اور روزہ نہ رکھے، تو ولی پر واجب ہے کہ اس کو سختی کے ساتھ روزہ رکھوائے، البتہ نماز میں تو مطلقاً ان عمروں کے مطابق حکم ہے اور بدن کی صحت کا کوئی اعتبار نہیں، لیکن روزہ رکھوانے کے حکم میں تفصیل ہے اور وہ یہ کہ بچے کو روزہ رکھنے کا حکم اسی وقت دیا جائے گا، جبکہ وہ طاقت و قوت کے اعتبار سے روزہ رکھنے کے قابل ہو، لہذا اگر اس کو روزے کی طاقت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.