Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عشر کی رقم مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنے کا حکم
Answer (beginning)
مسجد کی تعمیر میں براہ راست عشر کی رقم لگانا، جائز نہیں ہے اور اگر کسی نے ایسا کیا، تو عشر بھی ادا نہیں ہوگا، کیونکہ جو احکام زکوٰۃ کی ادائیگی کے ہیں، وہی احکام عشر کی ادائیگی کے بھی ہیں اور زکوٰۃ و عشر کی ادائیگی کے لیے کسی مستحق زکوٰۃ (شرعی فقیر) کو اس رقم کا مالک بنانا شرط ہے، لہذا اگر کسی مسجد کو ضرورت ہو کہ لوگ اس کی تعمیر وغیرہ میں دلچسپی نہیں رکھتے یا لوگوں کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ وہ اس کو تعمیر کر سکیں، تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ کسی شرعی فقیر کو بنیتِ عشر رقم کا مالک بنا دیا جائے، پھر وہ فقیر شرعی اس رقم پر قبضہ کر کے اپنی خوشی سے مسجد کی تعمیر و جملہ اخراجات پر لگا دے، تو اب…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.