Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حافظ صاحب کا دن کے نوافل میں بلند آواز سے قرآن سنانا
Answer (beginning)
اولاً یہ بات ذہن نشین رہے کہ دن کے نوافل میں امام و منفرد (تنہا نماز ادا کرنے والا) دونوں پر سر (آہستہ پڑھنا) واجب ہے اور ان میں جہر (بلند آواز سے پڑھنا) ناجائز اور گناہ ہے اور رات کے نوافل میں منفرد کو اختیار ہے، چاہے سر کرے یا جہر اور امام پر جہر واجب ہے۔ دن سے مراد طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک اور رات سے مراد غروب آفتاب سے لے کر طلوع صبح صادق تک کا وقت ہے۔ اس تفصیل سے سوال کا جواب بھی واضح ہو گیا اور وہ یہ کہ حفاظ کا مذکورہ طریقہ کار کے مطابق دن میں منزل سنانا، جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں دن کے نوافل میں جہر کرنا پایا جائے گا، جو ناجائز اور گناہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.