Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تراویح پڑھانے کی اجرت لینے کا حکم؟
Answer (beginning)
شریعت کا حکم یہ ہے کہ عبادت کے کاموں پر اجرت لینا اور دینا جائز نہیں ہے، البتہ دینی ضرورت کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی اجرت کی متاخرین یعنی بعد کے علماء نے اجازت دی ہے، جیسے قرآن سکھانے، دینی علوم کی تعلیم دینے، وعظ کہنے اور اذان و امامت کرنے کی اجرت، کیونکہ ان چیزوں کے نہ ہونے سے دین ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ در مختار میں ہے: (ترجمہ: طاعات پر اجارہ جائز نہیں ہے، جیسے اذان، حج، امامت، قرآن اور فقہ کی تعلیم پر اجارہ اور فی زمانہ قرآن پاک اور فقہ کی تعلیم، امامت اور اذان کے لیے اجارے کے صحیح ہونے پر فتویٰ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.