Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مال کسی اور جگہ، بندہ کسی اور جگہ ہو، تو زکوٰۃ کس حساب سے دینی ہوگی ؟

Answer (beginning)

زکوٰۃ کی ادائیگی میں اس جگہ کا اعتبار کیا جاتا ہے، جس جگہ پر مال موجود ہوتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں وہ اسلامی بہن اپنے زیورات کی زکوٰۃ پاکستان کی قیمت کے مطابق ادا کرے گی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی میں مال والی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ”زکاة المال فحیث المال فی الروایات کلها“ یعنی تمام روایات کے مطابق مال کی زکوٰۃ ادا کرنے میں مال والی جگہ کا اعتبار ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 75، بیروت) اسی طرح در مختار میں ہے: ”ویقوم فی البلد الذی المال فیه“ یعنی زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے 1 مالک اس جگہ کی قیمت لگائے گا، جہاں پر مال موجود ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.