Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چلتے ہوئے تلاوتِ قرآن کرنے کاحکم
Answer (beginning)
چلتے ہوئے تلاوت کرنا، جائز ہے جبکہ چلتے کی وجہ سے دل تلاوت کے علاوہ کسی اور طرف مشغول نہ ہوتا ہو۔ اگر چلتے کی وجہ سے توجہ ہٹتی ہو یا دل تلاوت کے علاوہ کسی اور طرف مشغول ہو رہا ہو، تو اس صورت میں چلتے ہوئے تلاوت کرنا، مکروہ و ناپسندیدہ عمل ہے۔ فتاویٰ تاتارخانیہ، فتاویٰ خانیہ، حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے: ”أما قراءة الماشي والمحترف إن كان منتبها لا يشغله العمل والمشي جاز“ یعنی چلتے ہوئے اور کوئی کام کرتے ہوئے تلاوت کرنا، جائز ہے بشرطیکہ وہ متوجہ رہے اور اس کا کام کرنا یا چلنا اس کی توجہ ہٹنے کا سبب نہ بنے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.