Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قبضہ سے پہلے چیز آگے بیچنا اور قبضہ کی مختلف صورتیں
Answer (beginning)
پڑھی گئی صورت میں خرید و فروخت کا یہ طریقہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ منقول یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی اشیاء کی خریداری کے بعد ان پر اپنا یا اپنے وکیل کا حقیقی یا حکمی قبضہ ہونے سے پہلے آگے بچنا جائز اور گناہ ہے۔ اب پڑھی گئی صورت میں مال کو خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی فیکٹری میں بیچ دیا جاتا ہے، لہذا یہ جائز نہیں۔ اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ آپ مال پر قبضہ کرنے کے بعد اسے آگے بچیں اور قبضہ کی درج ذیل دو صورتیں ہو سکتی ہیں: 1 (1) خریداری کے بعد آپ یا آپ کا وکیل وہاں موجود ہوں اور مال آپ کے سامنے اس طرح رکھ دیا جائے کہ اگر آپ اس پر قبضہ کرنا چاہیں، اسے کہیں لے جانا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.