Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پرائیویٹ بینک کے بانڈز کا نفع سود ی ہونے کی صورت
Answer (beginning)
پڑھی گئی صورت میں مذکورہ بانڈ کے بدلے رقم دینا حقیقت میں قرض دینا ہے اور اس پر نفع لینا یا قرعہ اندازی میں شامل ہونا قرض سے نفع حاصل کرنے کی صورت ہے جو ناجائز و حرام ہے۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۗ فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ ۗ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۗ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.