Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مریض کا علاج کروانے کے لیے گردہ(Kidney) بیچنے کی شرعی حیثیت

Answer (beginning)

کسی کے علاج کے لیے اپنا گروہ بیچنا، جائز نہیں اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہو۔ مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ خرید و فروخت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس چیز کو بیچا جارہا ہے، وہ ”مال“ ہو جبکہ انسانی اعضاء (Human Organs) مال نہیں ہیں۔ نیز انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کرنا شرف انسانی (Human Dignity) کے بھی خلاف ہے کہ اللہ پاک نے انسان کو معزز و محترم بنایا ہے لہذا سخت مجبوری میں بھی کسی کو اپنے اعضاء میں سے کوئی عضو بیچنا جائز نہیں۔ اپنی مالی مشکلات کے حل کے لیے اللہ پاک سے دعا کیجئے اور قریبی عزیز کے علاج کے لیے دیگر جائز اسباب اختیار کیجئے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.