Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نزع کے وقت تلقین کرنے کا طریقہ اور حکم
Answer (beginning)
جو شخص نزع کی حالت میں ہو اسے تلقین کرنا مستحب ہے اور تلقین مکمل کلمہ طیبہ کی جائے، کہ علماء نے اس تلقین کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ جو شخص نزع میں ہوتا ہے، اس کے پاس دو شیطان ماں باپ کی شکل میں آتے ہیں، جس میں سے ایک اسے (معاذ اللہ) یہودی ہونے کی اور دوسرا عیسائی ہونے کی دعوت دیتا ہے، تو کلمہ طیبہ کی تلقین شیطان کے اس وسوسہ کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی اور ظاہر ہے کہ محض ”لا اله الا الله“ سے یہ وسوسہ دور نہیں ہو گا کہ اتنا یہودی اور عیسائی بھی مانتے ہیں، بلکہ اس شیطانی وسوسہ کا علاج مکمل کلمہ طیبہ ہے، لہذا ابوقت نزع مکمل کلمہ طیبہ کی تلقین کی جائے، تاکہ شیطان کے اس وسوسہ کا علاج ہو سکے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.