Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قبلہ کی طرف پاؤں کرنے کا حکم ؟ چند چیزوں سے اعتراض اور جواب
Answer (beginning)
کعبہ معظمہ دین اسلام میں انتہائی عزت و اہمیت کا حامل ہے، اسے شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) میں شمار کیا جاتا ہے، اس کی تعظیم کرنا اور ادب بھالانا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، اس کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی جانب پاؤں نہ پھیلائے جائیں، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے فرمایا (بغیر عذر صحیح) 1 جان بوجھ کر قبلہ شریف کی طرف پاؤں پھیلانا، ممنوع و مکروہ ہے کہ اس میں قبلہ شریف کی بے ادبی ہے۔ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ”اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے، تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.