Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا،کیا اس سے بینائی چلے جانے کا اندیشہ ہے؟
Answer (beginning)
نماز اہم ترین عبادت اور قربِ الہی کا ذریعہ ہے، نماز میں بندہ اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مناجات کرتا ہے۔ احادیثِ طیبہ کے مطابق نماز میں اللہ پاک کی رحمت بندے کی طرف متوجہ رہتی ہے، جب تک بندہ ادھر اُدھر متوجہ نہ ہو جائے، اس لیے چاہیے کہ نماز میں ادھر اُدھر دیکھنے کی بجائے، خشوع و خضوع سے نماز ادا کرے اور نماز میں قصد اُچہرہ پھیر کر دائیں بائیں دیکھنا، خواہ پورا چہرہ پھیر جائے یا تھوڑا، مکروہ تحریمی و ناجائز ہے اور چہرہ گھمائے بغیر صرف آنکھیں پھیر کر بلا ضرورت ادھر اُدھر دیکھنا مکروہ تنزیبی اور ناپسندیدہ عمل ہے اور اگر کبھی کسی صحیح غرض و مقصد کے لیے ہو، تو کوئی حرج نہیں اور جہاں تک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.