Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نابالغ بچے کے وضو کرنے سے پانی مستعمل ہوجائے گا ؟
Answer (beginning)
نابالغ بچے اگر سمجھ دار ہو اور قربت یعنی ثواب کی نیت سے وضو کرے، تو اس کے وضو کا پانی مستعمل ہو گا، البتہ اگر بچے نا سمجھ ہو یا سمجھ دار ہو، مگر ثواب کی نیت کے بغیر وضو کرے، تو پانی مستعمل نہیں ہو گا۔ تنویر الابصار ودر مختار میں ہے: "(ولا يجوز) بماء (استعمل ل) أجل (قربة) أي ثواب ولو مع رفع حدث أو من مميز (أو) لأجل (رفع حدث) ولو مع قربة (أو) لأجل (إسقاط فرض اذا انفصل عن عضو وان لم يستقر) في شيء على المذهب -ملخصا" اور اس پانی سے وضو کرنا، جائز نہیں ہے جسے قربت یعنی ثواب کے لیے استعمال کیا گیا اگرچہ حدث دور کرنے کے ساتھ ہو یا سمجھ دار بچے سے (ایسا استعمال پایا جائے) یا حدث دور کرنے کے لیے اگرچہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.