Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زیادہ کام کرنے والے شریک کی اجرت فکس کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
پونچی گئی صورت میں زیادہ کام کرنے والے پارٹنر کی نفع کے علاوہ ماہانہ سیلری (اجرت) فکس کرنا، جائز نہیں۔ مسئلے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ شریعت مطہرہ نے ملازم (Employee) رکھنے کے جو اصول بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی کام کے لئے ملازم (Employee) نہیں بن سکتا۔ سیلری مقرر نہ کیے جانے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک پارٹنر کے لئے سیلری فکس کرنا شرکت کے منافع (Against) ہے کیونکہ شراکت داری (Partnership) ایک ایسا عقد (Agreement) ہے جس میں تمام شراکت دار (Partners) اصل رقم اور نفع دونوں میں شریک ہوتے ہیں، مذکورہ طریقے کے مطابق ایک پارٹنر کی تنخواہ (Salary) مقرر (fix) کر دینے کے بعد…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.