Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کے لیے مخصوص ایام میں قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنے کا حکم
Answer (beginning)
جس طرح عورت کے لیے حیض و نفاس کے ایام میں قرآن پاک کی تلاوت کرنا، ناجائز و حرام ہے، اسی طرح قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا بھی ناجائز و حرام ہے۔ کیونکہ قرآن پاک کا ترجمہ خواہ کسی بھی زبان میں ہو، اس کو پڑھنے اور چھونے کا حکم قرآن مجید کو پڑھنے اور چھونے جیسا ہی ہے۔ اب جہاں تک لا علمی میں ترجمہ پڑھنے کی بات ہے، تو اگر لا علمی سے مراد یہ ہے کہ عورت کو پڑھتے وقت معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ قرآن پاک کا ترجمہ ہے، بلکہ اسے بعد میں معلوم ہوا، تو ایسی صورت میں چونکہ عورت نے اپنی لا علمی کی بنا پر ترجمہ پڑھنے کا قصد یعنی ارادہ نہیں کیا، لہذا وہ شرعاً گنہگار بھی نہ ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.