Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مخصوص ایام میں عورت کا دینی کتب (تفسیر ،حدیث ،فقہ، وغیرہ ) کو چھونے کا حکم

Answer (beginning)

عورت کے لیے حیض کے ایام میں حدیث، فقہ، تصوف وغیرہ کتب دینیہ کو بلا حاکم چھونا، مکروہ یعنی ناپسندیدہ ہے، کیونکہ کتب دینیہ میں قرآن پاک کی آیات موجود ہوتی ہیں۔ البتہ دینی کتابوں کو کسی کپڑے، قلم وغیرہ سے یا دستانے پہن کر چھونا، بلا کراہت جائز ہے۔ یہ حکم قرآن پاک کی تفسیر کے علاوہ دیگر دینی کتب کا ہے۔ قرآن پاک کی تفسیر چھونے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر تفسیر مفصل نہ ہو یعنی اس میں آیات قرآنیہ کی مقدار تفسیر کی بہ نسبت زیادہ ہو، اور اسے قرآن ہی کہا جاتا ہو، جیسا کہ تفسیر خرائن العرفان، نور العرفان وغیرہ تو ایسی تفسیر کو چھونے کا حکم قرآن پاک چھونے کی طرح ہے یعنی ایسی تفسیر کو حیض کی حالت میں چھونا،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.