Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خطبہ کے دوران خطیب کا لوگوں کی گردنیں پھلانگنے سے منع کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

خطبہ کے دوران اگرچہ خطیب کا بھی بلا ضرورت گفتگو کرنا، مکروہ ہے، لیکن اس کے لیے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بلا کراہت جائز ہے، اگرچہ اردو وغیرہ زبان میں ہو اور اس سے خطبہ فاسد نہیں ہوتا کہ اسے دوبارہ پڑھنے کا حکم ہو، کیونکہ اس معاملہ میں یہ نماز کی طرح نہیں۔ 1 اور گردن چھلانگ کر دوسروں کو اذیت دینے والے شخص کو روکنے کے متعلق تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل مبارک وارد ہے، چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے: "عن جابر بن عبد اللہ، أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة، ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يخطب، فجعل يتخطى الناس، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اجلس، فقد آذيت وآنيت" ترجمہ: حضرت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.