Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بچوں کی کنیت رکھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

نفس مسئلہ جاننے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ اصل نام کے علاوہ وہ نام جس سے پہلے ابو، ابن، ام یا بنت وغیرہ موجود ہو اس کو ”کنیت“ کہا جاتا ہے، جیسے ابو القاسم، ابن ہشام، امّہانی، بنت حوا وغیرہ، کنیت کبھی والد کی نسبت سے رکھی جاتی ہے، کبھی بیٹے یا بیٹی کی نسبت سے رکھی جاتی ہے۔ مرد و عورت دونوں کے لیے کنیت رکھنا، مستحب یعنی کارِ ثواب ہے، کنیت رکھنے کے لیے بندے کا شادی شدہ یا صاحب اولاد ہونا، ضروری نہیں، اہل عرب کی عادت یہ تھی کہ جب ان کے ہاں بچے کی ولادت ہوتی، تو اس کی کنیت رکھنے اور اس میں نیک فال لیتے تھے کہ ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک دن یہ بچہ والد بنے گا، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.