Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مقروض کی اجازت کے بغیر قرض ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
مقروض کا قرض اس کی اجازت کے بغیر ادا کرنا، جائز ہے، اس صورت میں اس مقروض کا قرض بھی اداہوجائے گا اور یہ عمل قرض ادا کرنے والے کی طرف سے حسن سلوک اور نیکی ہے، جس پر ثواب کی امید ہے۔ مجمع الضمانات میں ہے: ”لو قضیٰ دین غیرہ بغیر امرہ جاز“ یعنی اگر کسی نے دوسرے کا قرض اس کی اجازت کے بغیر ادا کر دیا، تو یہ عمل جائز ہے۔ (مجمع الضمانات، الجزء الثانی، صفحہ 921، مطبوعہ قاہرہ) 1 امام شیخ زین الدین بن ابراہیم الشہیر بابن نجیم مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "لو قضیٰ دین الحییٰ ان قضاہ بغیر امرہ یکون متبرعاً" یعنی اگر کسی زندہ شخص کا قرض اس کی اجازت کے بغیر ادا کر دیا، تو ادا کرنے والا متبرع…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.