Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایڈوانس زکوٰۃ دینے کا حکم
Answer (beginning)
پڑھی گئی صورت میں آپ زکوٰۃ کی نیت سے دی ہوئی اس اضافی رقم کو اگلے تین سال کی زکوٰۃ 1 میں شمار کر سکتے ہیں اور اگر ان سالوں میں آپ مالکِ نصاب رہے، تو یہ ایڈوانس دی گئی زکوٰۃ درست ہو جائے گی۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زکوٰۃ واجب ہونے کا اصل سبب زکوٰۃ کے نصاب کا مالک ہونا ہے اور جو مسلمان مرد یا عورت مالکِ نصاب ہو، اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سال مکمل ہونے پر زکوٰۃ ادا کرے، بلکہ وہ سال مکمل ہونے سے پہلے بھی بیٹی یعنی ایڈوانس میں اپنی زکوٰۃ دے سکتا ہے، چاہے ایک ہی بار میں اکٹھی دے دے یا سال کے دوران تھوڑی تھوڑی کر کے دیتا رہے اور سال مکمل ہونے سے پہلے ہی زکوٰۃ ادا کر دینا زیادہ بہتر ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.