Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عصر کے بعد پڑھنا ،لکھنا منع ہے ؟
Answer (beginning)
عصر اور مغرب کے درمیان مطالعہ، تحریری کام اور سبق یاد کرنا ہلا کر اہت جائز ہے۔ عصر کے بعد لکھنے پڑھنے کی ممانعت کے بارے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی روایت منقول نہیں۔ ہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض علماء مثلاً: امام احمد بن حنبل اور امام شافعی علیہما الرحمة سے اس کی ممانعت منقول ہے، لیکن وہ بھی طبی نقطہ کے پیش نظر ہے کہ عصر کے بعد روشنی کم ہو جاتی ہے اور کم روشنی میں لکھنے پڑھنے سے آنکھوں کے کمزور ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ مقاصد حسنہ و کشف الخفاء میں ہے، واللفظ للآخر: ”من أحب حبيبتيه أو كريمتيه فلا يكتبن بعد العصر۔ قال القاري لا أصل له في المرفوع۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.