Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی، اس نے کفر کیا۔حدیث پاک کی وضاحت

Answer (beginning)

سوال میں بیان کردہ روایت حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا حقیقت میں کافر نہیں، بلکہ فاسق و فاجر اور کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے۔ اس حدیث پاک اور اسی طرح دوسری احادیث جن میں بے نمازی کو کافر کہا گیا ہے، ان کی علمائے کرام اور محدثین نے درج ذیل تشریحات بیان کی ہیں: 1. (1) بے نمازی کو زجر و توبیخ کی وجہ سے کافر کہا گیا۔ 2. (2) نماز چھوڑنے والا عمل کافروں جیسا ہے کہ وہ بھی نماز نہیں پڑھتے۔ 3. (3) نماز کو ترک کرنا بے نمازی کو کفر تک پہنچا دے گا۔ 4. (4) نماز چھوڑنے کو حلال سمجھ کر ترک کرتا ہے، یہ حقیقت میں کفر ہے۔ 5. (5) کفر کی سزا کا مستحق ہے۔ 6.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.