Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طوافِ وداع کیے بغیر طائف چلے گئے، تو کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

نفس مسئلہ جاننے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ 'طواف وداع' اس طواف کو کہتے ہیں جو اپنے وطن واپسی کے وقت بیت اللہ شریف سے رخصت ہونے کے لیے کیا جاتا ہے، یہ آفاق یعنی میقات کی حدود سے باہر رہنے والے لوگوں پر مٹی سے واپس آنے کے بعد میقات سے باہر جانے سے پہلے کرنا واجب ہے، البتہ طواف وداع کا وقت طواف زیارت کے بعد شروع ہو جاتا ہے، طواف زیارت کے بعد کوئی بھی نفلی طواف کر لیا، تو وہ طواف وداع کے قائم مقام ہو جائے گا، جب کہ وطن واپسی کا پختہ ارادہ ہو، لہذا جو حاجی طواف زیارت کے بعد نفلی طواف کر لے اس کا طواف وداع ہو جائے گا، اس کے ذمہ طواف وداع واجب نہیں رہے گا، ہاں مستحب اور افضل یہ ہے کہ عین واپسی کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.