Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہلاکو خان نے جب بغداد پر حملہ کیا تھا تو علماء آپس میں مناظرے کر رہے تھے؟

Answered by
محمد احمد سلیم مدنی
Fatwa no.
FSD-8781
Issued
09 شعبان / 1445ھ / 20 فروری 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مشہور اعتراض علماء پر ہوتا ہے کہ مذہبی رہنماؤں کی آپسی لڑائی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہ ہو گیا ہے، سنا ہے کہ جب بلا کو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو مذہبی رہنما کوے کے حلال و حرام ہونے اور مسواک کی لمبائی پر مناظرے کر رہے تھے، شرعی رہنمائی فرمادیں کہ کیا واقعی معاشرے کی تباہی کے پیچھے مذہبی رہنماؤں کے آپسی اختلافات ہیں؟

Answer (beginning)

سوال کے جواب سے پہلے تمہید آئی جان لیا جائے کہ علمائے کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ہمیں کیا درس و نصیحت فرماتے ہیں اور علماء کے اوصاف قرآن و حدیث میں کس انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ علماء کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ﴾ ترجمہ: اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.