Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک خط کی حقیقت
- Answered by
- ابوالفیضان عرفان احمدمدنی
- Fatwa no.
- Sar 8482
- Issued
- 15 مفرالظفر 1445ھ / 02 ستمبر 2023ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ سوشل میڈیا پر ایک خط بہت وائرل ہو رہا ہے جس کا متن درج ذیل ہے: رحمتہ للعالمین، خاتم النبیین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عیسائیوں کے نام لکھا گیا خط یہ پیغام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عیسائیت قبول کرنے والوں کے لیے ہے، خواہ دور ہوں یا نزدیک۔ یہ ایک عہد ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں، بے شک میں، میرے خد منگار، میرے مددگار اور پیروکار ان کا تحفظ کریں گے، کیونکہ عیسائی بھی میرے شہری ہیں اور خدا کی قسم میں اس سے پرہیز کروں گا جو ان کو ناخوش کرے، ان پر کوئی جبر نہیں ہو گا، نہ ان کے منصفوں کو ان کے عہدوں سے جٹایا جائے گا اور نہ ہی ان کے راہبوں کو ان کی خانقاہوں سے۔ ان کی عبادت گاہوں کو کوئی بھی تباہ نہیں کرے گا، نقصان نہیں پہنچائے گا اور نہ ہی وہاں سے کوئی شے مسلمانوں کی عبادت گاہوں میں لے جائی جائے گی، اگر کسی نے وہاں سے کوئی چیز لی، تو وہ خدا کا عہد توڑنے اور اس کے نبی کی نافرمانی کا مرتکب ہو گا، بے شک وہ میرے اتحادی ہیں اور انہیں ان تمام کے خلاف میری امان حاصل ہے، جن سے وہ نفرت کرتے ہیں، کوئی بھی انہیں سفر یا جنگ پر مجبور نہیں کرے گا، بلکہ مسلمان ان کے لیے جنگ کریں گے، اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان سے شادی کرے گی، تو ایسا اس کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہو گا اور اس عورت کو عبادت کے لیے…
Answer (beginning)
(1) سوال میں بیان کردہ خط کی نسبت نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف کرنا ہر گز درست نہیں، کیونکہ بعینہٖ ان الفاظ کے ساتھ احادیث، سیرت اور تاریخ کی مستند و معتقد کتب میں کوئی خط موجود نہیں۔ جہاں تک وائرل خط میں ذکر کی گئی کتب کا تعلق ہے، تو ان میں سے پہلی کتاب "کتاب الخراج" میں ان الفاظ کے ساتھ خط ہی موجود نہیں ہے، بلکہ ان الفاظ کے علاوہ، ایک دوسرا خط موجود ہے جس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.