Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پانچ دن کے لیے آبائی گھر آنے والا نماز میں قصر کرے گا ؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13408
- Issued
- 14 ذی الحجہ الحرام 1445ھ / 21 جون 2024ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید پاکستان کا رہائشی ہے، کمانے کی غرض سے بیرون ملک گیا۔ دوسال بعد زید پانچ دن کی چھٹی پر اپنے آبائی گھر پاکستان واپس آیا۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ ان پانچ دنوں کی نماز زید مکمل پڑھے گا یا ان میں قصر کرے گا؟
Answer (beginning)
مسافر جب اپنے آبائی شہر اور وطن اصلی میں داخل ہو جائے تو وہ مقیم ہو جاتا ہے اگرچہ اس نے اقامت کی نیت نہ کی ہو۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں زید اپنے وطن اصلی میں داخل ہوتے ہی مقیم ہو گیا، یہاں جتنے بھی دن زید کا قیام ہو گا، نماز پوری ہی ادا کرے گا۔ مسافر وطن اصلی میں داخل ہوتے ہی مقیم ہو جاتا ہے، لہذا نماز پوری پڑھے گا۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے: ”واذا دخل المسافر مصره اتم الصلاة وان لم ينو الاقامة فيه سواء دخله بنية الاجتياز او دخله لقضاء الحاجة۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.