Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے جانور کی دو ٹانگیں ٹوٹ جائیں تو قربانی ہو جائے گی؟

Answered by
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13405
Issued
307ھ / اکتوبر 1445ھ / 14 جون 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قربانی کا میل، گاڑی سے اس زور سے گر اکہ بیچارے کی اگلی دونوں ٹانگیں ہی ٹوٹ گئیں، اب نہ تو وہ اٹھ سکتا ہے اور نہ ہی وہ چل سکتا ہے۔ اس صورت میں قربانی کے حصہ داروں کے لیے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

قربانی درست واقع ہونے کے لیے قربانی کے جانور کا بڑے عیب سے پاک ہونا ضروری ہے، احادیثِ مبارکہ اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق لنگڑا جانور جو کہ لنگڑے پین کے سبب قربان گاہ تک پہنچنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو، ایسے جانور کی قربانی شرعاً جائز نہیں۔ پڑھی گئی صورت میں اُس میل کی اگلی ٹانگیں ٹوٹنے کے سبب چونکہ اس میں بڑا عیب پیدا ہو گیا ہے، اس لیے اب اُس میل کی قربانی نہیں ہو سکتی، لہذا جن حصہ داروں پر قربانی واجب ہے وہ دوسرا جانور لا کر یا پھر کسی بڑے جانور میں حصہ ڈال کر اپنا واجب ادا کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.