Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حائضہ عورت جنبی ہوجائے، تو پاکی کے لیے کتنے غسل کرے؟
- Answered by
- ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13392
- Issued
- 22 ذی القعدہ الحرام 1445ھ / 31 مئی 2024ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حائضہ عورت اگر جنبی ہو جائے، تو حیض ختم ہونے پر پاکی حاصل کرنے کے لیے وہ عورت کتنے غسل کرے گی؟
Answer (beginning)
پوجھی گئی صورت میں اس عورت کے لیے ایک ہی غسل کافی ہوگا۔ چنانچہ مبسوط للسرخسی میں ہے: ”أن الحائض إذا أجنبت يكفيها غسل واحد۔“ یعنی حائضہ عورت پر جنابت طاری ہو جائے تو ایک غسل کر لینا اسے کافی ہوگا۔ (المبسوط، کتاب الصلاة، ج 01، ص 44، دار المعرفة، بيروت) در مختار و غیرہ کتب فقہیہ میں ہے: ”و يكفي غسل واحد لعيد و جمعة اجتماع مع جنابة كمالفرضي جنابة و حيض۔“ یعنی عید اور جمعہ دونوں غسل جنابت کے ساتھ جمع ہو جائیں تو ان سب کے لیے ایک ہی غسل کرنا کافی ہوگا، جیسا کہ جنابت اور حیض دو فرض غسل کے لیے ایک ہی غسل کافی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.