Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس مسجد میں تین وقت کی جماعت ہوتی ہو، وہاں جمعہ قائم کرنا کیسا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13385
Issued
19 ذی القعدۃ الحرام 1445ھ / 28 مئی 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس مسجد میں فقط تین وقت کی نماز ہوتی ہو، کیا وہاں جمعہ قائم ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ مسجد مارکیٹ میں واقع ہے، فجر اور عشاء میں مارکیٹ بند ہوتی ہے۔

Answer (beginning)

جمعہ کی درست ادائیگی کے لیے شہر یا فنانے شہر ہونا ضروری ہے، مسجد ہونا کوئی شرط نہیں۔ لہذا شہر یا فنانے شہر میں کسی بھی مقام پر مثلاً میدان، مکان، عید گاہ وغیرہ میں جمعہ اگر اپنی تمام تر شرائط کے ساتھ قائم کیا جائے، تو اس صورت میں جمعہ درست ادا ہو گا۔ جمعہ کی درست ادائیگی کے لیے شہر یا فنانے شہر ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہدایت میں ہے: ”لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلّي المصر“۔ یعنی نماز جمعہ شہر کی جامع مسجد یا شہر کے مصلے ہی میں ادا ہو سکتا ہے۔ (أو في مصلّي المصر) کے تحت فتح القدیر میں مذکور ہے: ”والحکم غیر مقصور علی المصلی بل تجوز في جميع أفنیة المصر: أي وإن لم یکن فی مصلّي فیها“۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.