Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گونگے شخص نے آیاتِ سجدہ کی زیارت کی، تو سجدہ تلاوت کا حکم

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
Nor-13380
Issued
15 ذی القعدہ الحرام 1445ھ / 24 مئی 2024ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گونگے شخص کا دوسال سے معمول ہے کہ وہ ماہ رمضان میں پورے قرآن پاک کی زیارت کرتا ہے، اب ظاہر ہے کہ وہ قرآن تو نہیں پڑھ تو سکتا، اسی لیے فقط قرآن پاک کی زیارت ہی پر اکتفاء کرتا ہے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اُس گونگے شخص نے مکمل آیاتِ سجدہ کی زیارت کی بھی ہے، تو کیا اُس پر پورے 14 سجدہ تلاوت واجب ہوں گے؟

Answer (beginning)

آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے، آیتِ سجدہ بغیر پڑھے فقط اُس آیتِ سجدہ کی طرف نظر کرنے سے یا آیتِ سجدہ لکھنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں قرآنِ پاک کی فقط زیارت کرنے کے سبب اُس گونگے شخص پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوں گے۔ آیتِ سجدہ پڑھے بغیر فقط اُس کی طرف نظر کرنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ جیسا کہ غنیۃ المتملی میں ہے: ”لا تجب بالکتابۃ او النظر من غیر تلفظ لانه لم یقرا ولم یسمع۔“ یعنی آیتِ سجدہ پڑھے بغیر فقط اُسے لکھنے یا اُس کی طرف دیکھنے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا، کیونکہ اُس نے آیتِ سجدہ کو نہ تو پڑھا ہے اور نہ ہی سنا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.