Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیل قربان کرنے کی منت مانی ہو، تو اُس بیل کو بیچ کر دینی طلباء کو نصاب دلانا کیسا؟
- Answered by
- ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Nor-13371
- Issued
- 30/10/1445ھ / 10/10/2024ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے پاس ایک بیل موجود ہے، میں نے یہ منت مانی کہ ”اگر میرا افلاں کام ہو گیا تو میں اس بیل کو اللہ عزوجل کے نام پر قربان کر دوں گا۔“ اب میرا وہ کام تو ہو گیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تعلیمی سال کا آغاز ہوا ہے اور کئی دینی طلباء میری نظر میں ایسے ہیں کہ جو مستحق ہیں اور نصاب کی کتابیں خریدنا اُن کے لیے مشکل ہو رہا ہے، لہذا میری خواہش یہ ہے کہ میں اُس بیل کو قربان کرنے کے بجائے اُسے بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے اُن طلباء کو کتابیں دلادوں تاکہ اُن کی تعلیم میں حرج واقع نہ ہو، کیا میرا ایسا کرنا درست ہے؟
Answer (beginning)
جانور قربان کرنے کی منت مانی ہو تو اُس صورت میں قربانی کرنا ہی واجب ہوتا ہے، کیونکہ قربانی کرنا قربت مقصود ہے اور یہ قربت خون بہانے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے کوئی دوسری چیز اُس قربانی کا بدل نہیں بن سکتی، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا اُس بیل کو بیچ کر اُس کی رقم صدقہ کر دینا کافی نہیں ہو گا، آپ پر اُس بیل کی قربانی کرنا ہی واجب ہے۔ اُس بیل کو بیچ کر رقم صدقہ کر دینے سے آپ بری الذمہ نہیں ہوں گے۔ البتہ ممکنہ صورت میں حسب توفیق خود یاد بگر افراد کو ترغیب دلا کر اُن طلباء کی مدد کی جا سکتی ہے تاکہ وہ احسن انداز سے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.